\documentclass[letterpaper]{article}
\usepackage[margin=1in]{geometry} % set all margins (left, right, top, bottom) to 1 inch
\usepackage{polyglossia} %IMPORTANT. Allows using multiple languages in document. Knows about Urdu
\setmainlanguage[numerals=western]{urdu} % use numerals=eastern if urdu numbers are desired
\setotherlanguage{english}
\newfontfamily\urdufont[Script=Arabic,Scale=1.5]{Jameel Noori Nastaleeq} % or Nafees or Scheherazade
\newfontfamily\nast[Script=Arabic,Scale=1.5,WordSpace=2]{Jameel Noori Nastaleeq} % or Nafees
\newfontfamily\naskh[Script=Arabic,Scale=1.5,WordSpace=2]{Lateef} % or Scheherazade
\newfontfamily\englishfont[Script=Roman,Scale=1.3]{XITS} %
\parindent 0.3in
\renewcommand{\thesection}{\arabic{section} -} % add dash to section label. (Default is just section number.)
\renewcommand{\labelenumi}{\arabic{enumi}-} % change enumeration label punctuation to dash. Default is period.
\rightfootnoterule % force footnote separator rule to appear at right
\title{
برِّ صغیر کی موسیقی کی مبادیات: سبق 2
\\ \ \\
{\naskh
سُر، سبتک، سُرتی
}}
\author{}
\date{\today}
\begin{document}
\begin{urdu}
\maketitle
\thispagestyle{empty} % no page number on 1st page
\section{سُر}
انسان طرح طرح کی آوازیں سن کر ان میں امتیاز کر لیتا ہے، اور مختلف آوازوں کو پہچان سکتا ہے۔ یہ آوازوں کی چند صفات کی وجہ سے ممکن ہے، جن میں سے دو اہم صفتیں یہ ہیں:
\begin{enumerate}
\item
{\naskh
سطح
}
\item
{\naskh
شدّت
}
\end{enumerate}
آواز کی سطح (Pitch) سے مراد یہ ہے کہ آواز کتنی اونچی یا نیچی ہے۔ اونچی آواز کو ہلکی آواز بھی کہتے ہیں، اور نیچی آواز کو بھاری آواز بھی کہتے ہیں۔بھاری پن اور ہلکے پن کی صفت کو ان مثالوں سے سمجھا جا سکتا ہے: عام طور پر مردوں کی آواز بھاری ہوتی ہے اور عورتوں کی ہلکی۔ بچّے کی آواز بہت ہلکی ہوتی ہے، اور عمر کے ساتھ بھاری ہوتی جاتی ہے۔ لڑکوں کی آواز سنِ بلوغ پر پہنچنے پر اچانک نمایاں طور پر بھاری ہو جاتی ہے۔ باجوں میں بالعموم ڈھول کی آواز بھاری ہوتی ہے اور بانسری کی ہلکی۔
آواز کی شدّت (Intensity) سے مراد یہ ہے کہ آواز کتنی تیز یا دھیمی ہے۔ اس کا دار و مدار اس بات پر ہے کہ آواز کتنی توانائی صرف کر کے، یا کتنا زور لگا کر کے، پیدا کی گئی ہے۔ سرگوشی میں آواز دھیمی ہوتی ہے اور چِلّا کر بولنے میں تیز۔ پتّوں کے سرسرانے کی آواز دھیمی ہوتی ہے، اور بادل کے گرجنے کی آواز تیز ہوتی ہے۔ریڈیو وغیرہ میں ایک گھُنڈی ہوتی ہے یا بٹن ہوتا ہے جس کو گھما کر، یا بار بار دبا کر، آواز کو تیز یا دھیما کیا جا سکتا ہے۔
اردو میں آواز کی ان صفتوں کو بیان کرنے کے لئے بہت سے الفاظ ہیں، جیسے بلند یا پست، اُترتی یا چڑھتی، تیز یا آہستہ، زور سے یا آہستہ، تیز یا مدّھم، آواز کا بڑھنا اور گھٹنا، کمزور، نرم، ملائم، کومل، باریک۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ ان الفاظ کا استعمال مختلف معنوں میں اور مبہم طور پر ہوتا ہے۔ مثلاً اونچی یا نیچی آواز سے عام بول چال میں کبھی ہلکی اور بھاری آواز کی تفریق مراد ہوتی ہے اور کبھی تیز یا دھیمی آواز کی۔ علمی بحث کے کامیاب اور مفید ہونے کے لئے ضروری ہے کہ اصطلاحیں ابتدا میں وضع کر لی جائیں اور پھر پابندی سے طے شدہ معنوں میں ہی استعمال کی جائیں۔ اس لئے ہم بالالتزام آواز کی
{\naskh
سطح
}
کے لئے
{\naskh
اونچی یا نیچی
}
یا
{\naskh
ہلکی یا بھاری
}
اور
{\naskh
شدّت
}
کے لئے
{\naskh تیز}\footnote{
بد قسمتی سے ”تیز“ کی اصطلاح میں یہ قباحت ہے کہ آواز ہوا کے ذرّات کے جس ارتعاش سے پیدا ہوتی ہے اس کی رفتار ہلکی آواز میں تیز اور بھاری آواز میں آہستہ ہوتی ہے، لہٰذا ”تیز“ کے لفظ کا اطلاق خلطِ معنی کے ساتھ دونوں صفات (سطح اور شدّت) پر ہو سکتا ہے۔ مگر چونکہ اردو میں ”دھیمے“ کے مخالف معنوں میں ”تیز“ بڑی کثرت سے استعمال ہوتا ہے، اس لئے اصطلاح کے مقصد کے لئے ”تیز“ دوسرے متبادلوں سے بہتر اور زیادہ مناسب ہے۔
}
{\naskh
یا دھیمی
}
کے الفاظ استعمال کریں گے۔
سطح اور شدّت کے علاوہ آواز کی ایک اور صفت
{\naskh
کیف
}
(Timbre)
ہے۔ مختلف قسم کے باجوں پر پیدا کی ہوئی ایک ہی سطح اور شدّت کی آوازیں سماعت میں مختلف محسوس ہوتی ہیں۔ ایسے فرق کو کیف کا فرق کہا جاتا ہے۔ اِس سبق میں کیف کا مزید ذکر نہیں ہوگا۔
گفتگو یا گانے کے دوران آواز کی دونوں صفات بدلتی رہتی ہیں۔ لیکن اگر کوئی آواز اس طرح نکالی جائے کہ اس کی تمام مدّتِ وقوع کے دوران اس کی اونچائی یا نیچائی (بھاری پن یا ہلکا پن) نہ بدلے، یعنی سطح ایک ہی رہے، تو اس آواز کو
{\naskh
سُر
}
(Note)
کہتے ہیں۔ آواز کے تیز یا دھیما ہونے سے سُر پر فرق نہیں پڑتا۔ تیزی یا دھیمے پن سے قطع نظر، دو سُر صرف اس صورت میں مختلف ہوں گے جب ان میں سے ایک نسبتاً بھاری ہوگا اور دوسرا ہلکا۔
قدرتی اور مصنوعی آوازوں میں بے شمار سُر موجود ہوتے ہیں۔ موسیقی میں ان میں سے سات (7) سُروں کو متمیّز کر کے انہیں بنیادی سُر قرار دیا گیا ہے۔ برِّ صغیر کی موسیقی کے نظام میں ان کے نام یہ ہیں:
\begin{center}
{\naskh
کھرج، رکھب، گندھار، مدّھم، پنچم، دھیرج، نکھاد۔
}
\end{center}
ان کے نام اس ترتیب سے رکھے گئے ہیں کہ یہ یکے بعد دیگرے ہلکے ہوتے چلے جاتے ہیں۔ یعنی ان سروں میں کھرج سب سے بھاری ہے، اس سے ہلکا رکھب، اس سے ہلکا گندھار، علیٰ ہذا القیاس۔ اور نکھاد سب سے ہلکا ہے۔ مغربی موسیقی میں بھی بنیادی سُر (مختلف ناموں کے ساتھ) یہی ہیں۔ موسیقاروں کی آسانی کے لئے سُروں کے لئے اکثر مخفف نام اور علامتیں استعمال کی جاتی ہیں۔ یہ جدول
\ref{tbl:sur}
میں مذکور ہیں۔
\begin{table}[h]
\centering
\begin{tabular}{|c||c||c||c|}
\hline
\multicolumn{2}{|c||}{برِّ صغیر کی موسیقی} &
\multicolumn{2}{c|}{مغربی موسیقی}
\\
% \hline \hline
\hline
نام & مخفف & نام & علامت \\
\hline \hline
کھرج & سا &
Do & C \\
\hline
رکھب & رے &
Re & D \\
\hline
گندھار & گا &
Mi & E \\
\hline
مدّھم & ما &
Fa & F \\
\hline
پنچم & پا &
Sol & G \\
\hline
دھیوت & دھا &
La & A \\
\hline
نکھاد & نی &
Si & B \\
\hline
\end{tabular}
\caption{بنیادی سُر}
\label{tbl:sur}
\end{table}
\section{سبتک}
ایسے سُر ممکن ہیں جو کھرج سے بھی بھاری ہوں یا نکھاد سے بھی ہلکے ہوں۔ بنیادی نکھاد سے ہلکے اگلے سات سُروں کے نام بھی کھرج، رکھب، گندھار، …، نکھاد رکھے گئے ہیں ۔ تمام ممکن سُروں میں اگلا کھرج اس طرح چنا گیا ہے کہ وہ پہلے کھرج سے دگنا ہلکا یا اونچا ہے۔ اسی طرح اگلا رکھب پہلے رکھب سے دگنا ہلکا یا اونچا ہے، علٰی ہٰذالقیاس۔
ایک کھرج سے اگلے کھرج تک کی تمام آوازوں کے مجموعے کو
{\naskh
سبتک
}
(Octave)
کہا جاتا ہے۔ ہر سبتک میں یوں تو آوازیں بہت ساری ہو سکتی ہیں، لیکن بنیادی سُر سات ہی ہوتے ہیں، اور ان کے نام وہی ہوتے ہیں جو پہلے متعیّن شدہ سُروں کے ہیں، یعنی کھرج، رکھب، گندھار، مدھم، پنچم، دھیوت، نکھاد۔
چونکہ سُروں کے سلسلے کو مزید پیچھے (یعنی بھاری یا نیچی آوازوں پر مشتمل) یا مزید آگے (یعنی ہلکی یا اونچی آوازوں پر مشتمل) بڑھایا جا سکتا ہے، اس لئے نئے نئے سبتک بنائے جا سکتے ہیں۔ مگر انسانی سماعت محدود ہے اس لئے بہت بھاری یا بہت ہلکی آوازیں انسانی کان نہیں سن سکتے۔ تجربے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اوسط سماعت رکھنے والا انسان صرف تین سبتکوں کے سُر سن سکتا ہے۔ ایک تو وہی بنیادی سبتک جس کے سُروں کی فہرست جدول
\ref{tbl:sur}
میں پہلے ہی دی جا چکی ہے، ایک اس سے بھاری سُروں کا، اور ایک اس سے ہلکے سُروں کا۔ اس لئے صرف ان تین سبتکوں کے نام رکھے گئے ہیں:
\begin{enumerate}
\item{\naskh
مندر سبتک۔
}
اسے
{\naskh
مندر استھان
}
بھی کہا جاتا ہے۔
\item{\naskh
مدھ سبتک
}
یا
{\naskh
مدھ استھان
}
\item{\naskh
تار سبتک
}
یا
{\naskh
تار استھان
}
\end{enumerate}
ان میں مدھ بنیادی سبتک ہے۔ مندر ،مدھ سے بھاری سُروں والا سبتک ہے اور تار ،مدھ سے ہلکے سُروں والا سبتک ہے۔ مختلف سُروں کے ہمنام ہونے سے اب کوئی دقت نہیں کیوں کہ سُر کے ساتھ اس کے سبتک کا ذکر ہمنام سُروں کے درمیان تمیز کرنے کے لئے کافی ہے۔ جیسے مندر گندھار، مدھ گندھار (جسے خالی گندھار کہنا کافی ہے) اور تار گندھار سب مختلف سُر ہیں۔
\section{سُرتی}
اب تک ہم نے بنیادی سُروں سے بھاری یا ہلکے سُروں کا ذکر کیا ہے۔ لیکن ایسی آوازیں بھی ممکن ہیں جو بھاری پن یا ہلکے پن میں دو متّصل بنیادی سروں کے بیچ میں پڑتی ہوں۔ جیسے کوئی ایسی آواز جو مدّھم سُر سے ہلکی ہو مگر پنچم سُر سے بھاری ہو۔ تجربے سے پتہ چلتا ہے کہ ان مختلف آوازوں کی تعداد زیادہ نہیں، کیوں کہ اگر دو آوازوں کے بھاری پن یا ہلکے پن میں فرق بہت خفیف ہو تو انسانی کان کو دونوں آوازیں ایک جیسی ہی لگتی ہیں۔
برِّ صغیر کی موسیقی کے نظام کے مرتّبین کے خیال میں ہر سبتک میں صرف بائیس (22) ایسی مختلف آوازیں ہوتی ہیں جن میں انسانی کان امتیاز کر سکتا ہے۔ ان آوازوں کو
{\naskh
سُرتی
}
یا
{\naskh
شُروتی
}
کہا جاتا ہے۔ ہر سُرتی کو سطح میں نزدیک ترین نچلے بنیادی سُر سے وابستہ کر دیا گیا ہے۔ سُرتیوں کی فہرست اور ان کا سُروں سے تعلّق جدول
\ref{tbl:surti}
میں درج ہے۔
\begin{table}[h]
\centering
\begin{tabular}{|c||c|}
\hline
سُر & منسوبہ سُرتیاں \\
\hline \hline
کھرج یعنی سا & 4 سُرتیاں: تبیرا، کمودوتی، مندا ، چھندوتی \\
\hline
رکھب یعنی رے & 3 سُرتیاں: دیاوتی، رنجنی، رکتیکا \\
\hline
گندھار یعنی گا & 2 سُرتیاں: رودری، کرودھی \\
\hline
مدھم یعنی ما & 4 سُرتیاں: وجریکا، پرسانڑی، پریتی، مارجنی \\
\hline
پنچم یعنی پا & 4 سُرتیاں: شریتی ، رتکا، سندرینی، الاپنی \\
\hline
دھیوت یعنی دھا & 3 سُرتیاں: مدنتی، روہنی، رسیا \\
\hline
نکھاد یعنی نی & 2 سُرتیاں: آگرا، شروبھنی \\
\hline
\end{tabular}
\caption{سُر اور ان کی سُرتیاں}
\label{tbl:surti}
\end{table}
\end{urdu}
\end{document}